Showing posts with label cricket news. Show all posts
Showing posts with label cricket news. Show all posts

Tuesday, 6 August 2013

ٹیم کا مورال بلند کرنے کیلئے پاکستان کو زیادہ ٹیسٹ کھیلنے کی ضرورت ہے، وسیم اکرم

پاکستان کے مایہ ناز سابق فاسٹ بولر اور ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ٹیم کا مورال بلند کرنے کے لئے زیادہ  کھیلنے کی ضرورت ہے اور قومی کرکٹ ٹیم زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلے بغیر دوسری ٹیموں کامقابلہ نہیں کرسکتی۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنا پاکستان کی ترجیح ہونی چاہیئے کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم بہت کم ٹیسٹ میچز کھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو انڈر19 کے مزید ٹوور منعقد کرانے چاہیئیں تاکہ نوجوان ٹیلنٹ کو مستقبل کے لئے تیار کیا جا سکے۔
وسیم اکرم نے کہا  کہ پاکستان کے کوچز اور سلیکٹرز کو انڈر نائنٹین کے لڑکوں پر بھر پور توجہ مرکوز کرنی چاہیئے، ایک مضبوط ڈومیسٹک  کرکٹ ہی مضبوط قومی ٹیم بنا  سکتی ہے اور اس کی بہترین مثال آسٹریلیا کی لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں دنیا کی بہترین ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی اچھے کھلاڑی کے جانےکے بعد بھی ٹیم کی کار کردگی متا ثر نہیں ہو تی اور نوجوان کھلاڑی اس جگہ کو بھرنےکرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا پاکستان کو2015کے ورلڈ کپ کے لئے ابھی سے تیار ی شروع کر دینی چاہیئے تاکہ انٹر نیشنل ٹورنامنٹ میں ایک مضبوط ٹیم اتاری جا سکے۔

Srilanka

آئندہ 10 سال تک کسی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی نہ دیے جانے پر سری لنکن کرکٹ بورڈ نے احتجاج ریکارڈ کرادیا۔

بورڈ کے چیف جیانتھا دھرما داسا نے ناانصافی کیخلاف آواز بلند کرتے ہوئے اس سلسلے میں اختیار کیے جانے والے غیر شفاف طریقہ کار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی طرح سری لنکا کو بھی 2023 تک کسی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی نہیں دی گئی،ان فیصلوں پر آئی لینڈرز کرکٹ بورڈ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، ایس ایل سی کے چیف جیانتھا دھرماداسا نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے گذشتہ ماہ ایک خط میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا۔
انھوں نے پوچھا کہ آخر مختلف ممالک کو کس طریقہ کار کے مطابق ایونٹس کی میزبانی کا حق دیا جا رہا ہے؟ ماضی کی روایت کے برعکس لندن میں ہونے والی چیف ایگزیکٹیوز میٹنگ میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی، معاملات کو حتمی شکل دینے سے قبل ارکان کو اعتماد میں لینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، سری لنکا کو بغیر کوئی وجہ بتائے میزبانوں کی فہرست سے باہر کردیا گیا۔
طریقہ کار کے صاف اورشفاف ہونے پر سوالیہ نشان موجود ہے، انھوں نے کہا کہ آئی سی سی واقف ہے کہ ہم ملک میں 4انٹرنیشنل اسٹیڈیم تعمیر کرنے سمیت انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کرچکے ہیں تاکہ مستقبل میں اہم مقابلوں کے انعقاد میں کوئی دشواری نہ ہو، ہمیں اس سلسلے میں کرکٹ کی عالمی باڈی کے تعاون کی ضرورت ہے، قبل ازیں کیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ہمیں میرٹ پر انٹرنیشنل ایونٹس کی میزبانی کا حصہ دیا جائے۔
جیانتھا دھرماداسا کے مطابق ان کے خط میں اٹھائے گئے اعتراضات کے جواب میں آئی سی سی چیف نے مثبت جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں ازسر نو غور کریں گے، پوری کوشش ہوگی کہ شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے سری لنکا کو بھی اپنے میدانوں پر کوئی ایونٹ کرانے کا موقع فراہم کیا جائے، البتہ ان کی طرف سے میزبانی دینے کے طریقہ کار پر اٹھائے جانے والے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

Wednesday, 26 June 2013

آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس میں ٹوئنٹی 20 لیگز کو کرپشن سے بچانے کیلیے سخت اقدامات تجویز کیے جائیں گے، فکسنگ میں ملوث کرکٹرز اور آفیشلز کے سزاؤں سے بچ نکلنے پر اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ کی تشویش بڑھ گئی، مقابلوں کے میزبان ممالک میں خصوصی قوانین کی تشکیل کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ون ڈے کرکٹ میں فیلڈنگ کی پابندیوں اور دونوں اینڈ سے نئی گیندیں استعمال کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی، بنگلہ دیش کی تیاریاں نامکمل ہونے کے سبب ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی منتقلی کا مطالبہ بھی زور پکڑگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند برس میں میچ اور اسپاٹ فکسنگ کے متعدد اسکینڈلز نے شرفا کے کھیل کا دامن داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حالیہ آئی پی ایل اسکینڈل میں شری شانتھ سمیت 3 بھارتی کرکٹرز کے ملوث ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے اشرفل بی پی ایل میں کرپشن کا اعتراف کرچکے، گزشتہ سال ایک بھارتی چینل نے پاکستانی ندیم غوری سمیت اسٹنگ آپریشن کے ذریعے کرپشن کیلیے رضامند امپائرز کو بے نقاب کیا تھا۔
کرکٹ حلقوں میں ٹوئنٹی 20 لیگز کو کرپشن کا گڑھ قراردیا جا رہا ہے، کھیل کی تطہیر کا عمل تیز کرنے کے مطالبات میں تسلسل کے بعد آئی سی سی اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ نے لندن میں جاری سالانہ کانفرنس میں متعلقہ بورڈز کو سخت اقدامات تجویز کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اے سی ایس یو کے سربراہ سر رونی فلینیگن شرکا کو مسائل کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے ایسا سسٹم وضع کرنے کیلیے کہیں گے جس میں کرپٹ کھلاڑیوں اور آفیشلز کیلیے بچ نکلنے کے راستے مسددو ہوجائیں۔
یاد رہے کہ بھارتی عدالتی نظام میں کھیلوں میں کرپشن کے حوالے سے خصوصی کرمنل قوانین نہ ہونے کی وجہ سے کئی مجرموں پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوجاتا ہے، یہی صورتحال سری لنکا اور بنگلہ دیش کی بھی ہے۔ذرائع کے مطابق اے سی ایس یو کو تشویش ہے کہ کرپٹ کھلاڑی، آفیشلز اور بکیز قوانین میں نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مکروہ دھندہ ڈھٹائی سے جاری رکھتے ہیں، فلینیگن تینوں ممالک کے کرکٹ بورڈز سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی وفاقی حکومتوں کو ایسے سخت قوانین تشکیل دینے کیلیے کہیں جس سے کھیلوں میں بدعنوانی کے مرتکب افراد کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ شکنی ہو۔
دریں اثنا چیف ایگزیکٹیوز میٹنگ میں ون ڈے کرکٹ میں فیلڈنگ کی پابندیوں اور دونوں اینڈ سے نئی گیندیں استعمال کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی،وضع کردہ قوانین پر بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی سخت تنقید کرتے رہے ہیں، چیمپئنز ٹرافی میں مختلف ٹیموں کا اس حوالے سے ردعمل سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا کہ ورلڈ کپ سے قبل کیا تبدیلیاں یا ترامیم مناسب ہوں گی۔
کمیٹی بعض رکن ممالک کی طرف سے زیادہ ٹوئنٹی 20 اور ون ڈے کھیلنے کیلیے فیوچر ٹور پروگرام کے تحت طے شدہ ٹیسٹ میچز کو نظر انداز کرنے کے رجحان کا بھی جائزہ لے گی۔طویل فارمیٹ کی بقا کیلیے مقابلوں میں توازن برقرار رکھنے پر زور دیا جائے گا۔ بنگلہ دیش کی تیاریاں نامکمل ہونے کے سبب 16 مارچ سے شیڈول ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی منتقلی کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔
پاک ویسٹ انڈیز سیریز کے12 سے 28 جولائی تک انعقاد کا امکان ہے۔

اس دوران 5 ون ڈے اور2 ٹوئنٹی 20 میچز کھیلے جائیں گے،ذرائع کے مطابق ابتدائی دونوں ایک روزہ مقابلوں کی میزبانی گیانا کرے گا، اگلے تینوں میچز سینٹ لوشیا میں ہوں گے، ٹی ٹوئنٹی مقابلے سینٹ ونسنٹ میں ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ٹور کیلیے سلیکشن کمیٹی کا اجلاس یکم جولائی کو لاہور میں ہوگا، حتمی اسکواڈ کا حصہ بنانے سے قبل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ بھی ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم کی زیر صدارت قومی سلیکشن کمیٹی نے پلیئرز کی فہرست تو تیارکرلی تھی مگر قائم مقام چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے انھیں ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور سمیت کپتانوں مصباح الحق اور محمد حفیظ سے مشاورت کی ہدایت دی ہے، نوجوان پلیئرز احمد شہزاد، عمر اکمل، حارث سہیل، رضا حسن، صہیب مقصود، وکٹ کیپرز عدنان اکمل اور محمد رضوان کا فٹنس ٹیسٹ لینے کی ہدایت دی گئی ہے،فٹنس رپورٹ کی روشنی میں ہی انھیں اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Tuesday, 25 June 2013

آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پاکستانی کپتان مصباح کو ایک درجے ترقی نے بیٹنگ میں 9 ویں پوزیشن دلادی۔

چیمپئنز ٹرافی میں یکسر ناکامی کے باوجود گرین شرٹس کی چھٹی پوزیشن قائم رہی، چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی بھارتی ٹیم کے رویندرا جڈیجا نے بولنگ میں کیریئر کی بہترین تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔
آل رائونڈرز میں بھی وہ اسی نمبر پر آگئے، 6درجے کی چھلانگ نے روی چندرن ایشون کو بھی دوبارہ ٹاپ10میں پہنچا دیا،ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن پہلے اور پاکستانی اسپنر سعید اجمل بدستور دوسرے نمبر پر ہیں، ٹیم رینکنگ میں بھارت کی پہلی پوزیشن مستحکم ہوگئی، انگلینڈ دوسرے، آسٹریلیا تیسرے، جنوبی افریقہ چوتھے اور سری لنکا پانچویں نمبر پر براجمان ہے۔