Showing posts with label politacal updates. Show all posts
Showing posts with label politacal updates. Show all posts

Wednesday, 3 July 2013

Next General of Pakistan

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی کی مدت ملازمت رواں سال نومبرمیں ختم ہونے کے بعدآرمی سنیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم جواس وقت چیف آف لاجسٹکس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں سب سے سینئرموسٹ جنرل ہیں۔


ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم جن کاتعلق لاہورسے ہے وہ اس سے قبل کورکمانڈر بہاولپوررہ چکے ہیں جبکہ ڈی جی رینجرزاورکمانڈرایس ایس جی کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ سوات میں کامیاب پیوچارآپریشن کی سرپرستی بھی لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم نے کی اوروہ اس سلسلے میں21دن تک فوجی جوانوں کے ساتھ فیلڈ میں رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کوہٹہ ڈیو(div) کے کمانڈربھی رہ چکے ہیں۔ سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبرپر لیفٹیننٹ جنرل راشدہیں جو ان دنوں چیف آف جنرل اسٹاف ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل راشداس سے قبل کورکمانڈر لاہوررہ چکے ہیں۔
تیسرے نمبرپرلیفٹیننٹ جنرل طارق خان ہیں جن کاتعلق کوہاٹ کے نزدیکی علاقے جنوبی وزیرستان سے ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل طارق خان بھی اعلی پشہ وارانہ کیریئررکھتے ہیں وہ ان دنوں کور کمانڈر منگلاتعینات ہیں۔چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالسلام ہیں جوان دنوں ڈی جی آئی ایس آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالسلام کومسلم لیگ(ن)بھی انتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے ان کاشمار بھی پشہ وارانہ اعتبار سے بہترین جرنیلوں میں ہوتاہے۔ لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف ان دنوں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈایولوشن کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اس سے قبل وہ کورکمانڈرگوجرنوالہ رہ چکے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف میجرشبیرشریف نشان حیدرکے بھائی ہیں وہ وفاقی وزیر ریاستیں و سرحدی امورلیفٹیننٹ جنرل(ر)عبد لقادربلوچ کی زیرکمان خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے وزیراعظم نوازشریف کے قابل اعتمادساتھی وفاقی وزیرعبدالقادربلوچ ان کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں ، ذرائع کے مطابق کورکمانڈرراولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل خالدراجا بھی شاندارپشیہ وارنہ کیریئر کے حامل ہیں تاہم وہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل اپنے عہدے سے ریٹائرڈہوجائیں گے۔

Wednesday, 26 June 2013

 سندھ ہائیکورٹ کے سینئرجج جسٹس مقبول باقرکے اسکواڈ پربم حملے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔

کراچی کے علاقے برنس روڈ میں دھماکے  کے نتیجے میں 7 افراد بحق اور 15 زخمی ہوگئے، دھماکے میں سندھ ہائیکورٹ کے سینئرجج جسٹس مقبول باقر کےاسکواڈ پر کو نشانہ بنایا گیا، ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کردیا جبکہ جسٹس مقبول باقر کو سول اسپتال سے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے، زخمیوں میں پولیس اور رینجرز اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ جاں بحق افراد میں جسٹس مقبول باقر کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔
بم ڈسپوزل اسکوڈ نے دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے جس کے مطابق دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا جو پلانٹڈ ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا جس میں 6 سے 8 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، دھماکے میں بال بیئرنگ اور لوہے کے ٹکڑے بھی استعمال کئے گئے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ امیر شیخ کے مطابق دھماکے سے 3 پولیس موبائل اور 2 موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا، ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ  پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
جائے حادثہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ ہم جسٹس مقبول باقر کے لئے دعاگو ہیں، دھماکے میں ایک رینجر اور 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، دھماکے کی نوعیت کے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام ججوں کو سیکیورٹی دی ہوئی ہے، جسٹس مقبول باقر کے ساتھ بھی 3 پولیس موبائل تھیں۔
دوسری جانب سندھ بار کونسل نے عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد سٹی، ڈسٹرکٹ ملیر اور سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی کام معطل کردیا گیا ہے۔

Tuesday, 25 June 2013

چاہنے والوں کے لیے دبئی میں تقریب میں کرینہ کپور کے دیدہ زیب کپڑوں کی نیلامی کی گئی۔

نیلامی کا مقصد دبئی میں بے سہارا اور معذور بچوں کے لیے بنائے جانے والے اسپتال کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا تھا جس میں بالی وڈ فنکاروں کی اشیاء کو خصوصی طور پر نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔
نیلامی میں دیپکا پڈوکون، بالی وڈ دبنگ سلمان خان، بالی وڈ کوئن کرینہ کپور، رنبیر کپور، ایکشن کوئن کترینہ کیف سمیت دیگر کئی فنکاروں کے استعمال میں لائی جانے والی اشیاء کی نیلامی کی گئی۔فلم ریس ٹو میں اداکارہ دیپکا پڈوکون کا زیب تن کیاگیا سرخ لباس نیلامی کے لیے پیش کیا گیا جس کی بولی 8 ہزار درہم لگی جب کہ بالی ووڈ بے بو کرینہ کپور کی مختلف فلموں میں بطور ہیروئن زیب تن کی جانیوالی شلوار قمیص 10 ہزار درہم میں فروخت ہوئی۔
گلگت بلتستان میں دہشت گردی کی واردات کر کے پاکستان کا عالمی امیج تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

گلگت بلتستان میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘ دیامیر فیری میڈوز کے علاقے نانگا پربت بیس کیمپ میں ہفتے اور جمعہ کی درمیانی شب دہشت گردوں نے 9 غیر ملکی سیاحوں اور ایک پاکستانی کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ قتل ہونے والے غیر ملکی سیاحوں کا تعلق عوامی جمہوریہ چین‘ روس اور یوکرائن سے بتایا گیا ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس دہشت گردی کی واردات کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کے حوالے سے میڈیا میں جو بیان آیا ہے‘ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ تحریک سے منسلک جنود حفصہ نامی تنظیم نے کیا ہے اور ہم گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔
تحریک طالبان کے ترجمان نے جس تنظیم کا نام لیا ہے‘ یہ پہلے کبھی سننے میں نہیں آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے زیر سایہ کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کی ایجنسیوں کے لیے یہ ایک نیا پہلو ہے۔ میڈیا کی تفصیلات کے مطابق 18 ملکوں کے 40 سیاح کوہ پیمائی کے لیے آئے ہوئے تھے‘ ان میں 11 سیاح بیس کیمپ میں موجود تھے جب کہ باقی ان سے اوپر موجود تھے۔ بیس کیمپ میں موجود 11 میں سے 10دہشت گردوں کا نشانہ بنے جب کہ ایک چینی سیاح محفوظ ر ہا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کو بیس کیمپ تک دو گائیڈز لے کر گئے‘ ان دو گائیڈز میں سے ایک سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا جب کہ ایک حراست میں ہے۔ اس زیر حراست گائیڈ سے خاصی معلومات مل سکتی ہیں۔
گلگت بلتستان میں جو دہشت گردی ہوئی ہے‘ اس کی صدر مملکت آصف علی زرداری‘ وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت سب نے مذمت کی ہے‘ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرار داد بھی منظور کی ہے‘ گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو معطل کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ سیاحوں پر حملے کا مقصد پاکستان کا بین الاقوامی تشخص خراب کرنا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں کہا کہ یہ پاکستان پر حملہ ہے۔ یہ ایسی باتیں اور اقدامات ہیں جو ہر دہشت گردی کی واردات کے بعد دیے جاتے ہیں لیکن دہشت گردی‘ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے بارے میں کوئی پر عزم اور دو ٹوک پالیسی کہیں نظر نہیں آتی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے لیے ایک سافٹ ٹارگٹ بن چکا ہے۔
وہ جہاں چاہتے ہیں واردات کر لیتے ہیں۔ اول تو کوئی دہشت گرد گرفتار ہی نہیں ہوتا ‘ اگر کسی کو گرفتار بھی کیا گیا ہے تو وہ عدم ثبوت کی بنا پر باعزت بری ہو گیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو دہشت گردوں کو حقیقی معنوں میں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تحریک طالبان کو جو رہنما مارے گئے ہیں ‘ وہ بھی امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔ پاکستان کے کسی ادارے نے انھیں گرفتار کیا اور نہ ہی وہ ان کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سیاسی و مذہبی جماعتیں برملا دہشت گرد تنظیموں سے مذاکرات کی باتیں کرتی ہیں اور ان سے روابط کا اعتراف کرتی ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے اندر ہی آپریٹ کر رہی ہیں اور وہ یہ واردات کے بعد اس کی ذمے داری بھی قبول کرتی ہیں‘ اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود ملک کی بعض نامور شخصیات‘ سیاستدان اور مذہبی رہنما کالعدم تحریک طالبان اور دیگر تنظیموں سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں‘ اکثر دلیل دی جاتی ہے کہ امریکا طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔
ایسی بات کرنے والے حلقوں کو شاید یہ بات معلوم نہیں ہے کہ دوحہ میں جو مذاکرات ہونے جا رہے ہیں‘ ان کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ افغانستان کے موجودہ آئین کو تسلیم کریں گے۔ کیا کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے کی کبھی بات کی ہے؟ اس میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دہشت گردی میں ملوث تنظیمیں پاکستان کی دشمن ہیں۔ گلگت بلتستان میں دہشت گردی کی واردات کر کے پاکستان کا عالمی امیج تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور اسلام کی رو سے ناقابل معافی گناہ ہے۔ایسا قبیح جرم کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
پاکستان کی حکومت‘ اداروں‘ سیاستدانوں‘ مذہبی رہنمائوں‘ شاعروں‘ ادیبوں اور اہل علم کو اس معاملے میں چونکہ چنانچہ‘ اگر مگر کی روایت ترک کر کے دہشت گردی کے خلاف متفقہ موقف اپنانا چاہیے اور پوری قوم کو متحد ہوکر دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہوجانا چاہیے‘ اس طریقے سے ہی وطن عزیز کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔اگر دہشت گردی کے معاملے میں قوم کو ابہام میں رکھنے کی پالیسی برقرار رکھی گئی تو آنے والے دنوں میں وطن عزیز کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وبائی وزیرمذہبی امور حبیب الرحمٰن نے روزہ اور عید کے معاملے پر مقامی علما و رویت ہلال کمیٹیوں کے بجائے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پرعمل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ روزہ 
اور عید کا اعلان کرنا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا کام ہے۔

جبکہ مقامی اور زونل رویت ہلال کمیٹی کا کام صرف شہادتوں کو مرکزتک پہنچانا ہے جس کی پرکھ کرنا بھی مرکزی کمیٹی ہی کا کام ہے، صوبائی وزیر نے ایکسپریس کو بتایا کہ  مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا تاکہ وہ رمضان اور شوال کے چاند کے حوالے سے شہادتوں کا انتظارکرے اوراطمینان کے ساتھ فیصلہ کرے۔
سابق فوجی آمرجنرل پرویزمشرف کے ’محفوظ راستے‘کی تما م امکانات پیرکواس وقت معدوم ہوگئے جب وزیراعظم نوازشریف نے آئین توڑنے پرآرٹیکل 6کے تحت ان پرغداری کامقدمہ چلانے کاتاریخی اعلان کرکے سویلین اختیارقائم کیا۔