Wednesday, 26 June 2013

 سندھ ہائیکورٹ کے سینئرجج جسٹس مقبول باقرکے اسکواڈ پربم حملے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔

کراچی کے علاقے برنس روڈ میں دھماکے  کے نتیجے میں 7 افراد بحق اور 15 زخمی ہوگئے، دھماکے میں سندھ ہائیکورٹ کے سینئرجج جسٹس مقبول باقر کےاسکواڈ پر کو نشانہ بنایا گیا، ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کردیا جبکہ جسٹس مقبول باقر کو سول اسپتال سے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے، زخمیوں میں پولیس اور رینجرز اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ جاں بحق افراد میں جسٹس مقبول باقر کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔
بم ڈسپوزل اسکوڈ نے دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے جس کے مطابق دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا جو پلانٹڈ ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا جس میں 6 سے 8 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، دھماکے میں بال بیئرنگ اور لوہے کے ٹکڑے بھی استعمال کئے گئے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ امیر شیخ کے مطابق دھماکے سے 3 پولیس موبائل اور 2 موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا، ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ  پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
جائے حادثہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ ہم جسٹس مقبول باقر کے لئے دعاگو ہیں، دھماکے میں ایک رینجر اور 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، دھماکے کی نوعیت کے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام ججوں کو سیکیورٹی دی ہوئی ہے، جسٹس مقبول باقر کے ساتھ بھی 3 پولیس موبائل تھیں۔
دوسری جانب سندھ بار کونسل نے عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد سٹی، ڈسٹرکٹ ملیر اور سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی کام معطل کردیا گیا ہے۔

No comments:

Post a Comment